نئی دہلی30جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) کانگریس صدر راہل گاندھی نے سوئس بینکوں میں بھارتی شہریوں کی طرف سے جمع کئے جانے والے فنڈز میں 50 فیصد کے اضافے کو لے کر آج وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانہ لگایا اور کالے دھن کے معاملے پر موقف تبدیل کرنے کا الزام لگایا۔
راہل گاندھی نے ٹویٹ کر کہا کہ 2014 میں مودی نے کہا کہ میں سوئس بینکوں میں جمع کالا دھن لاؤنگا اور ہر ہندوستانی کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے دوں گا۔ 2016 میں انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی سے بھارت کالے دھن سے آزاد ہو جائے گا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ 2018 میں وہ کہتے ہیں کہ سوئس بینکوں میں بھارتی شہریوں کی طرف سے جمع کرائے جانے والی رقم میں 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ ’سفید‘ دھن ہے۔ سوئس بینکوں میں کوئی کالا دھن نہیں ہے!
واضح ہو کہ اس سے پہلے کانگریس کے خصوصی ترجمان سرجے والا نے اس مسئلے کو لے کر وزیر اعظم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ سوئس بینکوں میں کالا دھن 50 فیصد بڑھ کر 7000 کروڑ روپے ہوا۔ غیر ملکی بینکوں سے کالا دھن واپس لانے کا وعدہ کیا تھا ؛ لیکن یہ وعدہ وفا نہ ہوسکا ؛بلکہ وعدۂ بیداد ہی رہا ۔